1 نومبر 2013 - 20:30
حکیم اللہ کی ہلاکت کےبعد خان سجنا کالعدم پاکستانی طالبان کا سربراہ مقرر

میران شاہ…کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ کیلیے خان سید سجنا کے نام پر اتفاق کرلیا گیا/ کہا جاتا ہے کہ یہ سخت گیر نہیں ہے اور پاکستان میں تحریک طالبان کی کارروائیوں کے خلاف ہیں۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق پاکستان کے مختلف ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ ٹی ٹی پی نامی کالعدم دہشت گرد تنظیم کی امارت کے لئے ملا فضل اللہ، عمر خالد خراسانی اور خان سعید عرف خالد سجنا کے ناموں پر غور کیا گیا ہے تاہم فضل اللہ جیسے لوگوں کی ہلاکت کی خبریں سامنے آئي ہيں وہ وزیرستانی طالبان سے اتنے قریب بھی نہیں ہیں! تاہم کہا گیا ہے کہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد کالعدم تحریک طالبان کی مرکزی شوریٰ نے تنظیم کی سربراہی کے لئے  خان سید یا خان سعید عرف خالد سجنا کے نام پر اتفاق کرلیا ہے جو جنوبی وزیرستان کا رہائشی ہے اور ملک کے اندر کاروائیوں کے خلاف ہے اور اس کے دہشت تنظیم کے ہالِک سرغنے بیت اللہ محسود سے بھی قریبی تعلقات تھے اور کئی اہم فیصلوں میں اس کی رائے کو حتمی تصور کیا جاتا تھا۔ اجلاس کے دوران شوریٰ ارکان نے ملا فضل اللہ اور عمر خالد خراسانی سے ٹیلیفون پر طویل بات کی اور ان کے خیالات جانے، جس کے بعد شوریٰ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے نئے سربراہ کے لئے خان سید عرف خالد سجنا کے نام پر اتفاق کرلیا ہے۔قبل ازیں نجی ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان جنوبی وزیرستان کے امیر خان سید خالد سجنا کو تحریک کا امیر بنانے کا امکان ہے۔ نیشن کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ قاری ولایت محسود جو حکیم اللہ محسود کا کزن بھی ہے، کو بھی تحریک طالبان کا نیا امیر بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ بعض ٹی وی چینلز نے کہا تھا کہ سجنا گروپ اور حکیم اللہ محسود کے نظریات میں فرق ہے چنانچہ سجنا کو طالبان کا راہنما بنانے کا امکان کم ہے اور دعوی کیا گیا تھا کہ قاری ولایت کے نام کا اعلان جلد کر دیا جائے گا کیونکہ وہ حکیم اللہ محسود کے بعد سب سے سینئر کمانڈر ہے۔ اس دعوے میں کہا گیا تھا کا قاری ولایت کا اعلان عنقریب ہونے والا ہے کیونکہ شوریٰ کے 15 ارکان میں سے 11 نے قاری ولایت جبکہ صرف 4 نے شاہد اللہ شاہد کے حق میں ووٹ دیا ہے! ایک رپورٹ اور:بعض ذرائع نے لکھا ہے: سرکاری اور کالعدم تحریک طالبان کے ذرائع نیز آزاد ذرائع کے مطابق کل شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع چشمہ پل کے علاقے میں امریکی جاسوس طیاروں نے کالعدم تحریک طالبان کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا تھا جس میں ولی الرحمن بھی اپنے پانچ ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں فخر عالم، نصیر الدین، عادل شامل ہیں۔ ولی الرحمن کو ڈنڈے درپہ خیل کے علاقے میں حقانی قبرستان میں جبکہ پانچ شدت پسند کمانڈروں کو میران شاہ کے مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ بعد ازاں کالعدم تحریک طالبان جنوبی وزیرستان کی شوریٰ کا اجلاس ہوا جس میں خان سید عرف سجنا کو نیا امیر مقرر کرلیا گیا۔ خان سید عرف سجنا کی عمر 36 سال ہے اس کا تعلق قوم شوبی خیل جنوبی وزیرستان سے ہے۔ سجنا نے افغانستان جہاد میں بھی حصہ لیا تھا وہ ولی الرحمن کے نائب بھی تھا۔ اس رپورٹ میں حکیم اللہ محسود کا نام تک نہیں آیا ہے اور یوں ظاہر کیا گیا ہے کہ گویا طالبان کا کمانڈر اور امیر ولی الرحمن تھا اور سجنا اس کا نائب تھا۔ پاکستانی ذرائع کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خان سید سجنا کو حکیم اللہ محسود کا دست راست اور قریبی ساتھی سمجھاجاتا ہے اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سخت گیر نہیں ہے اور پاکستان میں تحریک طالبان کی کارروائیوں کے خلاف ہیں۔ .......

/٭۔٭ ـ 169